صرف انسان اور کچھ بھی نہیں

صرف انسان اور کچھ بھی نہیں
میری پہچان اور کچھ بھی نہیں

ایک امکان اور کچھ بھی نہیں
میرا سامان اور کچھ بھی نہیں

ہم ہیں وہم و گمان کی زد میں
علم نادان اور کچھ بھی نہیں

اک ترا غم مرا اثاثہ ہے
چند دیوان اور کچھ بھی نہیں

کھٹکھٹاتے کواڑ کھڑکی کے
میں پریشان اور کچھ بھی نہیں

جس کو دشوار کر لیا میں نے
اتنا آسان اور کچھ بھی نہیں

عشق ایثار مانگتا ہے کلیمؔ
اس میں نقصان اور کچھ بھی نہیں

کلیم احسان بٹ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا