بزمِ طرب میں بادہ و ساغر

بزمِ طرب میں بادہ و ساغر پڑا ہوا
آنکھوں میں ایک رہ گیا منظر پڑا ہوا

جیسے زمیں نے کھینچ لی دیوار زیر پا
جیسے ہو آسمان بھی سر پر پڑا ہوا

حیرت کدے میں آنے سے پہلے میں کون تھا
پتھر سے پوچھتا تھا یہ پتھر پڑا ہوا

میرے گلے میں طوق و رسن ہیں پڑے ہوئے
اُس کے گلے میں رشتۂ گوہر پڑا ہوا

وہ بھی خیال و خواب ہی جیسا لگا ہمیں
جو تھا خیال و خواب سے باہر پڑا ہوا

کلیم احسان بٹ

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل