شور سا ایک، ہر اک سمت بپا لگتا ہے

شور سا ایک، ہر اک سمت بپا لگتا ہے
وہ خموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے

کتنا سا کت نظر آتا ہے ہواؤں کا بدن
شاخ پر پھول بھی پتھرایا ہوا لگتا ہے

چیخ اٹھتی ہوئی ہر گھر سے نظر آتی ہے
ہر مکاں شہر کا، آسیب زدہ لگتا ہے

آنکھ ہر راہ سے چپکی ہی چلی جاتی ہے
دل کو ہر موڑ پہ کچھ کھویا ہوا لگتا ہے

کتنا حاسد ہوں کہ اک تو ہی مرا اپنا ہے
اور تو ٹھیک سے ہنستا بھی برا لگتا ہے

میرے احساس نے ساون میں گنوائی ہے نظر
مجھ کو سوکھا ہوا جنگل بھی ہرا لگتا ہے

عدیم ہاشمی 

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے