ہم چھوڑ کے گھر اپنا آباد کریں صحرا

ہم چھوڑ کے گھر اپنا آباد کریں صحرا

جائیں تو کہاں جیدیؔ ایسی ہے پریشانی

بچوں کو سلا دیں تو ہمسایہ نہیں سوتا

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

اطہر شاہ خان جیدی

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا