کھڑا ہے گیٹ پہ شاعر مشاعرے کے بعد

کھڑا ہے گیٹ پہ شاعر مشاعرے کے بعد

رقم کے وعدے پر اس کو اگر بلایا تو دے

کوئی تو ڈھونڈ کے لائے کہ منتظم ہے کہاں

لفافہ گر نہیں دیتا نہ دے کرایہ تو دے

اطہر شاہ خان جیدی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی