شہر در شہر لیے پھرتے ہیں

شہر در شہر لیے پھرتے ہیں
راستے گھر نہیں جانے دیتے

آگے دُنیا نہیں آنے دیتی
پیچھے منظر نہیں جانے دیتے

شام آتی ہے مگر گھر والے
گھر سے باہر نہیں جانے دیتے

دھُوپ رستہ نہیں چلنے دیتی
سائے اُٹھ کر نہیں جانے دیتے

کیوں اُلٹ دیتے ہو پیمانۂ دل
کیوں اِسے بھر نہیں جانے دیتے

کاشف حسین غائر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی