نہ ہونے کا گماں رکھّا ہُوا ہے

نہ ہونے کا گماں رکھّا ہُوا ہے
کہ ہونے میں زیاں رکھّا ہُوا ہے

زمیں کے جسم پر قبریں نہیں ہیں
خیالِ رفتگاں رکھّا ہُوا ہے

سرِ مژگاں مرے آنسو نہیں ہیں
سلوکِ دوستاں رکھّا ہُوا ہے

یہاں جو اِک چراغِ زندگی تھا
نہ جانے اب کہاں رکھّا ہُوا ہے

یہ دنیا اِک طلسمِ آب و گِل ہے
یہاں سب رائیگاں رکھّا ہُوا ہے

کاشف حسین غائر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی