سنبھالے گا ہمیں کیا غم ہمارا

سنبھالے گا ہمیں کیا غم ہمارا
یہ سایہ بھی ہے کوئی دم ہمارا

تھے ہم اک اَور ہی عالم میں جب تھے
ہے اب کچھ اور ہی عالم ہمارا

ہوئے ہیں قتل ہم اپنے ہی ہاتھوں
کرے گا کیا کوئی ماتم ہمارا

یہ دنیا ہے کہ دشتِ کربلا ہے
یہ دریا ہے کہ سیلِ غم ہمارا

ہمارے بعد گردِ رہگزر کو
رہا تو دھیان کم سے کم ہمارا

یہ بدلے ہی نہیں دن رات اپنے
کہ آیا ہی نہیں موسم ہمارا

کاشف حسین غائر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی