آ کبھی شام کے علاوہ بھی

آ کبھی شام کے علاوہ بھی
مل کبھی کام کے علاوہ بھی

کوئی منظر ہو دیکھنے کے لیے
ان در و بام کے علاوہ بھی

دامنِ دشت میں بہت کچھ ہے
گردِ ایّام کے علاوہ بھی

زندگی کیا نہیں بہت کچھ ہے
اپنے انجام کے علاوہ بھی

اور کچھ یاد ہے تجھے غائر
یار اُس نام کے علاوہ بھی

کاشف حسین غائر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا