رات، ملنے لگی گلے مجھ سے

رات، ملنے لگی گلے مجھ سے
سائے مانوس ہو چلے مجھ سے

میں کہیں ان کا مسئلہ تو نہیں
کیوں اُلجھتے ہیں مسئلے مجھ سے

سامنے آ کے بیٹھتا تو سہی
بات کرتا نہ وہ بھلے مجھ سے

مل اُسی باغ میں جہاں ہر روز
شام ملتی ہے دن ڈھلے مجھ سے

گاہے گاہے سُلگتا رہتا ہوں
ملتے رہتے ہیں دل جلے مجھ سے

طے ہُوا بس کہ طے نہیں ہوں گے
بِن تمھارے یہ مرحلے مجھ سے

کاشف حسین غائر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی