شائستگی کے واسطے اک بار چاٹ لے

شائستگی کے واسطے اک بار چاٹ لے
میرے دہن کو آپ کی گفتار چاٹ لے

چمکیں گی ساری غزلیں تیری مثلِ کہکشاں
تو کلیات میر کے اشعار چاٹ لے

یہ جسم کیا ہو روح بھی شفایاب بل یقین
اس خاکِ کربلا کو جو بیمار چاٹ لے

بدلا ہے دور رہنا ہو زندہ تجھے اگر
دیمک نکل تو لکڑی سے دیوار چاٹ لے

ایم اے دوشی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی