کہانی کا کوئی منظر

کہانی کا کوئی منظر یا پھر کردار مت سمجھو
حقیقت کا بیاں ہیں یہ فقط اشعار مت سمجھو

محبت سے ملو گے تو، محبت سے ملوں گا میں
محبت کا میں پیکر ہوں، مجھے فنکار مت سمجھو

تماری بے وفائی پر،جو میں نے سادھ لی ہے چپ
یہ میری اعلی ظرفی ہے، مجھے لاچار مت سمجھو

کسی کے پیار کی خوشبو، ہے شامل میری سانسوں میں
مرا بھی دل دھڑکتا ہے، مجھے بیکار مت سمجھو

ہوا کے دوش پر دوشی، کروں گا گفتگو تم سے
تم اپنی سرحدوں کے ِاس، یا پھر اس پار مت سمجھو

ایم اے دوشی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی