شعور و فہم کا عالم

شعور و فہم کا عالم اُدھر سے گزرے گا
جنوں نواز محبت جدھر سے گزرے گا

بجھا سکے گا کہاں تشنگی محبت کی
وہ سیل غم جو میری چشم تر سے گزرے گا

قفس میں مٹ نہیں سکتی فطرت پرواز
اسیر کشمکش بال و پر سے گزرے گا

ملے گا ایک نہ اک دن اُسی کو ساحل بھی
وہ شخص جس کاسفینہ بھنور سے گزرے گا

ہزار بار حرم آ کے راستہ روکے
سر نیاز تیرے سنگ در سے گزرے گا

یہی روش ہے منزہ اگر زمانے کی
بشر شرافت نوع بشر سے گزرے گا

منزہ انور گوئیُندی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے