شجرکاری مہم کی افادیت اورضروری تجاویز
درخت ہماراقیمتی سرمایہ ہیں۔ درخت خودتوسورج کی گرمی برداشت کرتے ہیں جب کہ انسانوں، جانوروں اورپرندوں کوسایہ فراہم کرتے ہیں۔ درخت ماحول کوبہتربنانے اورصاف کرنے میں اہم کرداراداکرتے ہیں۔درخت مویشیوں کے لیے چارہ، بیٹھنے کے لیے سایہ، آگ جلانے کے لیے ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ گھر،دفتراوردکان کے استعمال کے لیے فرینچربھی درختوں سے بنایاجاتاہے۔درخت لگانے کے یہ وہ فائدے ہیں جوہرایک جانتاہے۔ کسی زمانے میں نہروں اورسڑکات کے کناروں کے ساتھ ساتھ درخت قطاربنائے کھڑے ہوتے تھے۔ نہروں کے ساتھ اورسڑکات کے کناروں کے ساتھ کہیں کہیں دکھائی دیتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ملک بھرمیں ایک ارب درخت لگانے کااعلان کیاتھا۔ ہمیں وزیراعظم عمران خان کایہ اعلان بہت پسندآیا کہ انہوں نے ملک کے ایک اہم اورضروری مسئلہ کوحل کرنے کی طرف توجہ دی۔
عمران خان کے اس منصوبہ پرسیاستدانوں کی طرف سے تنقید تو ہوتی رہتی ہے لیکن اس منصوبہ کی مخالفت کسی نے نہیں کی۔ سیاستدانوں کی طرف سے لگائے گئے درختوں کی تعدادکے بارے میں توسوالات ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ کسی سیاستدان نے نہیں کہا کہ یہ منصوبہ غلط ہے۔ دیہاتوں میں کسان درخت پال کرگزراوقات کرتے ہیں۔ ہرکاشتکاردرختوں سے محبت کرتاہے۔ کاشتکارکی طرح ہرشخص
وزیراعظم کاایک ارب درخت لگانے کامنصوبہ ملک وقوم کے مفادکے لیے بہترین منصوبہ ہے۔ یہ توابھی کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ عمران خان کے دور حکومت کے پانچ سالوں میں ایک ارب پودے لگائے جاسکتے ہیں یانہیں لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ موجودہ دورحکومت میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جاسکیں گے۔ شجرکاری مہم ہردورحکومت میں اورہرسال چلائی جاتی ہے۔ ہرسال لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں۔راقم الحروف کے مشاہدے اورتجربے کے مطابق پاکستان میں ہرسال شجرکاری مہم میں پودے لگائے توجاتے ہیں مگران کی حفاظت نہیں کی جاتی۔اگرایک سوپودے لگائے جاتے ہیں توان میں سے مشکل سے چاریاپانچ پودے ہی درختوں کاروپ دھارنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں۔
کمشنرملتان ڈویژن نے دس لاکھ روپے کی بات کی ہے کہ صرف درخت لگاناہی کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت بھی کی جائے۔ ہرسال سرکاری سطح پرمنائی جانے والی شجرکاری مہم میں سرکاری محکموں اور اداروں کی طرف سے لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ عوام کی طرف سے بھی ہرسال لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں۔ عوام اپنے لگائے گئے پودوں کی اپنے تجربوں اورعلم کے مطابق حفاظت اوردیکھ بھال کرتے ہیں۔ اس بات سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتا کہ جودرختوں کی حفاظت اوردیکھ بھال کی جوصلاحیت حکومتی اداروں کے پاس ہے وہ عوام کے پاس نہیں۔ سرکاری سطح پرمنائی گئی ہرشجرکاری مہم میں لگائے گئے پودوں کی حفاظت عوام کوبھی کرنی چاہیے مگریہ ذمہ داری حکومتی اداروں کی ہی ہے۔ نہروں اورسڑکوں کے کناروں پرجوپودے لگائے جاتے ہیں ان کوچندہفتوں کے بعدبے یارومددگارچھوڑ دیاجاتاہے۔ نہروں اورسڑکات کی دیکھ بھال کے لیے عملہ تعینات ہوتاہے۔ شہری علاقوں میں بلدیہ کے ملازمین اورنہروں اورسڑکوں کے کناروں پر لگائے جانے والے درختوں کی حفاظت اوردیکھ بھال یہ عملہ بخوبی کرسکتاہے یہ الگ بات ہے کہ ملازمین کی تعدادکم ہونے کی وجہ سے بڑھائی بھی جاسکتی ہے۔ حکومت چاہے توپودوں اوردرختوں کی حفاظت اوردیکھ بھال کے لیے خصوصی بھرتیاں بھی کرسکتی ہے۔ شجرکاری مہم کوکامیاب اورملک کووقوم کے لیے مزید فائدہ مندبنانے کے لیے چندتجاویزلکھی جارہی ہیں۔یقین سے کہاجاسکتاہے کہ ان تجاویزپرعمل ہونے کی صورت میں ملک کوقوم کوبہت فائدہ ہوگا۔ سب سے پہلی بات تویہ ہے کہ پودے لگاتے وقت ہردوپودوں میں درختوں کے پھیلاؤ کے مطابق پندرہ سے پچیس فٹ کافاصلہ ضروررکھاجائے۔ نہروں،سڑکوں اوردریاؤں کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن کے دونوں اطراف بھی پودے لگائے جانے چاہییں۔پودے لگاتے وقت ایسے پودوں کوترجیح دی جائے جوپھل دار بھی ہوں اورسایہ داربھی۔درختوں کے لیے موزوں جگہوں پرپھل داراورسایہ داردرختوں کے نئے جنگلات بھی لگائے جائیں۔ اس سے نہ صرف ملک میں عوام کوتازہ اورسستے پھل کھانے کوملیں گے بلکہ ان پھلوں کوبرآمدکرکے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایاجاسکے گا۔ عوامی سطح پرشجرکاری کومزیدفروغ دینے کے لیے مقابلوں اور انعامات کااعلان کیاجائے۔ وزیراعظم عمران خان اعلان کریں کہ جوکسان اپنی اپنی زمینوں کے کسی ایک ٹکڑے پرپھل داراورسایہ دار درختوں کا ذخیرہ یاجنگل لگائیں گے۔جس کاذخیرہ یاجنگل سب سے بہتراورخوشنماہوگا اس کاانعام دیاجائے گا۔ ضلعی، صوبائی اوروفاقی سطح پردس بہترین ذخیروں اور جنگلات کاانتخاب کرکے انعامات دیے جائیں۔ ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں کہ جس سے درختوں کی کٹائی کم سے کم ہو۔درختوں کی شاخوں کی کٹائی کرتے وقت اس طرح کٹائی کی جائے کہ ان کے پھیلاؤمیں مزیداضافہ ہو۔ درختوں کی دشمن فنگش کی بیماری بھی عام ہے حکومت کواس بیماری اوردرختوں کی دیگربیماریوں کے تدارک کے لیے بھی خصوصی اورفوری اقدامات کرناہوں گے۔
محمدصدیق پرہار