مِری وفا پر سوال کر کے

مِری وفا پر سوال کر کے
وہ جا رہا ہے کمال کرکے

لگا کے الزامِ بے وفائی
چلا وہ مجھ کو نڈھال کر کے

یہ دل تو اب تک ہے اس کا محرم
گئے دنوں کا خیال کر کے

جہاں رہے خوش رہے وہ مجھ کو
سپردِ رنج و ملال کر کے

سکون ملتا نہیں کسی کو
کسی کا جینا محال کر کے

منزّہ سیّد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی