سہنے کو رنج گنبدِ بے در میں آ گیا

سہنے کو رنج گنبدِ بے در میں آ گیا
وہ بد نصیب شہرِ ستم گر میں آ گیا

قدرت کا شاہکار تھا رنگِ چمن مگر
گلشن کا سارا حسن گلِ تر میں آگیا

بادل یہاں پہ کھل کے جو برسا تمام رات
طوفان کوئی زیست کے ساگر میں آ گیا

حُُر کتنا خوش نصیب تھا لاکھوں کو چھوڑ کر
ابنِ علی کے خیمہ ء اطہر میں آ گیا

اس کا خیال آتے ہی یادوں کا اک ہجوم
،دستک دیے بغیر مرے گھر میں آ گیا ،

پاگل ہوا نے سارے دیئے ہی بجھا دیے
گاؤں سیاہ رات کی چادر میں آ گیا

نکلا سفر کے واسطے جب گھر سے وہ نسیم
کچھ اور درد شام کے منظر میں آ گیا

نسیم شاہانہ سیمیں

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا