ارادہ کر لیا ہے جب سفر کا

ارادہ کر لیا ہے جب سفر کا
تو پھر کیا سوچنا شام و سحر کا

فضا کی وسعتوں تک جاوں گی میں
کہ اب ہے امتحاں ان بال و پر کا

بہاروں کو بہاروں نے ڈسا ہے
شجر کو کھا گیا سایہ شجر کا

اداسی رقص کرتی پھر رہی ہے
عجب عالم ہے تیرے بعد گھر کا

تراشوں گی نئے پیکر میں سیمیں
دکھاوں گی اثر دست ہنر کا

نسیم شاہانہ سیمیں

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا