سر فروشی کی تمنا

سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازو-اے-قاتل میں ہے۔

کرتا نہیں کیوں دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وو چپ تری مہفل میں ہے۔

اے شہیدے-ملکو-ملت میں تیرے اوپر نثار
اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی مہفل میں ہے

وقت آنے دے بتا دینگے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

کھینچ کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچا-اے-قاتل میں ہے

یوں کھڑا مقتل میں قاتل کہ رہا ہے بار بار
کیا تمنا-اے-شہادت بھی کسی کے دل میں ہے

(ملت=لوک، کوچا=گلی، مقتل=قتل گاہ)

نوٹ=اس رچنا دے کوی بسمل عظیم آبادی ہن
پر مشہور ایہہ رام پرساد بسمل دے ناں نال ہی ہے

 

رام پرساد بسمل

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے