صدائے شوق ، سکوتِ لبی سے شرمندہ

صدائے شوق ، سکوتِ لبی سے شرمندہ
تمام عمر رہے ہیں کسی سے شرمندہ

میں خود کو آج ذرا سا سنوار لیتا ہوں
کہ آئینے ہیں مری سادگی سے شرمندہ

ہماری چیخ سے ٹوٹی نہیں ہیں زنجیریں
یہی سبب ہے کہ ہم ہیں ہمی سے شرمندہ

ہم اپنی خاک جہاں میں اڑائے پھرتے ہیں
اے شہرِ یارتمہاری گلی سے شرمندہ

ہم اس صدی میں بھی منزل سے آشنا نہ ہوئے
یہ اور بات ھے پچھلی صدی سے شرمندہ

ہے میرے پاس یہ لُکنت زدہ زباں شاھد
اے میرے شوخ تری نغمگی سے شرمندہ

افتخار شاھد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے