بے نام اداسی کے ہیں اسباب عجب سے

بے نام اداسی کے ہیں اسباب عجب سے

دل ہے کہ بجھا جاتا ہے افراطِ طرب سے

دیکھا تو اندھیروں میں بہت رنگ تھے پنہاں

منظر کئی پیدا ہوئے یک رنگیِ شب سے

میں پیش قدم ہونے کو تھا بر سرِ میداں

اتنے میں ہزیمت کی خبر آئی عقب سے

گر سبز رتیں میرے مقدر میں نہیں تھیں

سینچا تھا میری خاک کو کیوں بحرِ عرب سے

آتا ہو سلیقہ تو سعود اب بھی سخن ور

کہتا ہے ہر اک بات،مگر حسنِ ادب سے

سعود عثمانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے