ساری دنیا دیکھ رہی ہے، دیکھو ناں

ساری دنیا دیکھ رہی ہے، دیکھو ناں
وہ کھڑکی سے جھانک رہی ہے، دیکھو ناں

بھر جائیں گے زخم تمہارے چھونے سے
اتنی گہری چوٹ لگی ہے، دیکھو ناں

جاگے ہوں گے لوگ تمہاری فرقت میں
مجھ کو ہجر میں نیند آتی ہے، دیکھو ناں

کیسے حاصل ہوں گے ہم اک دوجے کو
دنیا اپنے بیچ کھڑی ہے، دیکھو ناں

حاجِب اس کی اک تصویر ہے پاس مرے
میری دنیا بس اتنی ہے، دیکھو ناں

نبیل حاجب

Related posts

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

ملازمت بہتر یا کاروبار

زندگی بھر فکر کرتے رہے