جہاں بھی جاؤں میں اپنے شجر اگا لوں

جہاں بھی جاؤں میں اپنے شجر اگا لوں
مگر کسی کے شجر کی نہیں ہوا لوں گا

تو کیا ہوا ؟ کوئی رستہ نہیں بتاتا مجھے
تری طرف نئے رستے میں خود بنا لوں گا

ستارے میں نہیں لا سکتا آسماں سے مگر
تمہارے واسطے جگنو پکڑ کے پالوں گا

تم اپنا کام کرو قتل کر کے چلتے بنو
میں اپنی لاش کو خود راہ سے ہٹا لوں گا

نبیل حاجب

Related posts

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

ملازمت بہتر یا کاروبار

زندگی بھر فکر کرتے رہے