ہو گیا کیسا حادثہ مرے ساتھ

ہو گیا کیسا حادثہ مرے ساتھ
سوچتا ہوں یہ کیا ہوا، مرے ساتھ

تم سے ملنے کو جب نکلتا ہوں
چلنے لگتا ہے راستہ مرے ساتھ

ہونے دیتا نہیں مجھے گمراہ
آئینہ ہے ضمیر کا مرے ساتھ

راہگیروں سے کہہ رہا ہوں میں
آئیے، بیٹھیے ذرا مرے ساتھ

زندگی ہاتھ تھام لے میرا
موت رہتی ہے جا بجا مرے ساتھ

نبیل حاجب

Related posts

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

ملازمت بہتر یا کاروبار

زندگی بھر فکر کرتے رہے