روٹھ گیا دل سب سے

روٹھ گیا دل سب سے
آپ گئے ہیں جب سے

پہروں سونے والے
جاگ رہے ہیں کب سے

تاریکی، سناٹا
توبہ ایسی شب سے

کون وفا کا پیکر!
ہم واقف ہیں سب سے

غم ہی غم دیکھا ہے
آنکھ کھلی ہے جب سے

ہم مجرم ہیں لیکن
بات تو کیجے ڈھب سے

کیا لینا، کیا دینا
ہنس کر ملئے سب سے

بات کرو کچھ باقیؔ
چپ بیٹھے ہو کب سے

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان