اٹھا نقاب جب رُخ صبح بہار سے

اٹھا نقاب جب رُخ صبح بہار سے
روئی صبا لپٹ کے ہر اک شاخسار سے

شاخوں میں تھی دبی ہوئی شاید خزاں کی آگ
گلشن بھڑک اٹھا ہے نسیم بہار سے

گزرے ہوئے دنوں کے تصور سے فائدہ
کیا روشنی ملے گی چراغ مزار سے

روداد گلستاں کو نیا رنگ دے گیا
رستا رہا ہے خون جو زخم بہار سے

باقیؔ کبھی جلی تھیں محبت کی بستیاں
راہوں میں اڑ رہے ہیں ابھی تک شرار سے

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان