ظاہر تھا وہ غم تری ’’نہیں‘‘ سے

ظاہر تھا وہ غم تری ’’نہیں‘‘ سے
ہم کچھ بھی نہ کہہ سکے یقیں سے

روداد حیات کیا سنائیں
ہے یاد مگر کہیں کہیں سے

جیسے یہ تیری ہی رہگزر ہے
ہم بیٹھ گئے ہیں کس یقیں سے

رستے سے ہے گر پلٹ کےآنا
بہتر ہے پلٹ چلو یہیں سے

جذبات میں بہہ گئے ہیں باقیؔ
واقف تھے نہ ہم دل حزیں سے

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان