انسان دو حقیقتوں کا مجموعہ ہے — بدن اور روح۔
بدن کی بنیادی اکائی خلیہ ہے، اور ہر خلیے کے اندر اللہ کے حکم کی جو قوت کارفرما ہے، اسی کا نام روح ہے۔
بدن کو مٹی سے بنایا گیا، اسی لیے اس کی ضروریات بھی مٹی سے پوری ہوتی ہیں، جب کہ روح کی پرورش اللہ کے احکامات پر عمل کرنے سے ہوتی ہے، یوں بدن کی غذا خوراک ہے اور روح کی غذا نیک اعمال۔
بدن اور روح، دونوں کا مرکز دل ہے۔
دل ہی وہ مقام ہے جو خون کے ذریعے بدن کے ہر خلیے تک غذا پہنچاتا ہے۔ اسی دل کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"انسان کے بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا بدن درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا بدن بگڑ جاتا ہے — خبردار! وہ دل ہے۔”
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
نیک اعمال تو روح کی غذا ہیں، تو دل کے درست ہونے سے روح کی اصلاح کیسے ممکن ہوتی ہے؟
انسان کی آنکھیں، کان اور زبان وہ دروازے ہیں جن سے دل متاثر ہوتا ہے۔ جو کچھ انسان دیکھتا، سنتا اور بولتا ہے، وہ دل پر اثر ڈالتا ہے، اور یہی اثر روح تک منتقل ہوتا ہے۔ اگر یہ دروازے برائی سے محفوظ رہیں تو دل اور روح دونوں پاکیزہ رہتے ہیں، اور انسان نیکی کی توفیق پاتا ہے۔
جیسے ہوا سے آکسیجن پھیپھڑوں میں جاتی ہے، پھر خون میں شامل ہو کر دل تک پہنچتی ہے اور وہاں سے پورے بدن میں پھیلتی ہے اسی طرح انسان جو کچھ سنتا، دیکھتا یا پڑھتا ہے، اس کا اثر دل کے راستے روح تک پہنچتا ہے۔
ممکن ہے کہ ذکرِ الٰہی، نماز، یا قرآن کی تلاوت کے دوران ایسی روحانی لہریں اور شعاعیں پیدا ہوتی ہوں جن کی فرکونسی اور امپلیچیوڈ روح پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ جیسے بدن کو زندہ رہنے کے لیے ہر لمحہ آکسیجن درکار ہوتی ہے، ویسے ہی روح کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل نیک اعمال ضروری ہیں۔
اگر ہوا میں موجود آکسیجن کا صرف 14 یا 15 فیصد حصہ ہی خون تک پہنچتا ہے، تو مشائخِ سلوک کا یہ قول معنی خیز محسوس ہوتا ہے کہ:
"زبان پر سو مرتبہ اللہ کا نام لینے سے دل صرف ایک بار اللہ کہتا ہے۔”
یعنی روح تک اثر پہنچنے کے لیے زیادہ محنت، اخلاص اور تسلسل درکار ہے۔
جیسے بدن کی ضروریات پوری کی جائیں تو جسم مضبوط ہوتا ہے،اسی طرح نیک اعمال اور ذکر سے روح پروان چڑھتی ہے۔ طاقتور بدن جسمانی بیماریوں سے مقابلہ کرتا ہے،
اور مضبوط روح شیطانی و نفسانی شرور کے خلاف ڈھال بن جاتی ہے۔
بدن کے کمزور ہونے سے قوتِ مدافعت ختم ہو جاتی ہے،
اسی طرح روح کے کمزور ہونے سے انسان روحانی بیماریوں — جیسے تکبر، حسد، شہوت اور غفلت — میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
کچھ غذائیں بظاہر مفید مگر درحقیقت مضر ہوتی ہیں،
جیسے فاسٹ فوڈ یا کولڈ ڈرنکس۔
ایسے ہی کچھ اعمال بظاہر روح کو خوش کرتے ہیں،
مگر دراصل روح کو مردہ کر دیتے ہیں،
جیسے موسیقی، بد نظری، جھوٹ اور غیبت۔
جب جسم بیمار ہو تو کھانے کی رغبت ختم ہو جاتی ہے،
اور جب روح بیمار ہو تو نیکی میں دل نہیں لگتا۔
جسمانی بیماری کے علاج کے لیے انسان معالج کے پاس جاتا ہے،
اور روحانی بیماری کے علاج کے لیے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرتا ہے۔ جیسے معالج نسخے میں کچھ ادویات تجویز کرتا ہے اور کچھ چیزوں سے پرہیز کا حکم دیتا ہے، اسی طرح روحانی صحت کے لیے گناہوں سے اجتناب اور ذکرِ الٰہی لازم ہے۔ اگر علاج میں پابندی نہ کی جائے تو شفا ممکن نہیں، اسی طرح روحانی علاج سے فائدہ تبھی حاصل ہوتا ہے جب انسان استقامت اختیار کرے۔
بدن ظاہر ہے اور روح باطن۔
ظاہر کی زینت محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے —
آپ ﷺ کے طرزِ زندگی کو اپنانے سے انسان کا ظاہر حسین و جمیل بنتا ہے۔ باطن کی زینت لا الٰہ الا اللہ ہے —
یعنی یقینِ کامل، قربِ الٰہی اور تعلق مع اللہ سے روح منور ہوتی ہے۔
بدن نظر آتا ہے، اس کی ضروریات سمجھنا آسان ہے،
لیکن روح چونکہ پوشیدہ ہے، اس کی احتیاجات سمجھنا مشکل لگتا ہے، اسی لیے انسان عام طور پر اس پہلو کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
یقیناً جسمانی طور پر صحت مند انسان ہی معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے، لیکن اگر وہی انسان روحانی بیماریوں کا شکار ہو تو کیا ایسا معاشرہ واقعی ترقی کر سکتا ہے؟
سوچنے کا مقام یہی ہے۔
ڈاکٹر صابر شاہ