۱
ناولٹ
میڈم
(حقیقی کہانی)
مصنفہ ۔۔۔۔۔۔۔عندلیب بھٹی
حصّہ ۔۔دوئم
سر رحمان اُس کی صلاحتیوں سے گویا اُس کے انٹرویو کے روزسے ہی آگاہ تھے ۔تقریری مقابلہ ہو یا شعرو شاعری ،گلوکاری یا بیت بازی ،ڈرامہ ہو یا کوئی تقریب منعقد کرنا۔۔ وہ کرسکتی تھی اور سب اُسی کے کاندھے پر تھا اُسی اکلوتی تنخواہ میں ۔۔جو دوسری ٹیچرز کو یہ سب کیے بنا ملا کرتی۔آخر کار میری غیر محسوس سفارش پر اُسے بچوں کی کاپیاںدیکھنے کے لیے ایک جونئیر ٹیچر فراہم ہونے جا رہی تھی ۔
’’آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ؟‘‘
ایک صبح وہ اسمبلی کروا کے ہائی
۲
کلاس کی بچیوں کو اُن کی جماعت میں روانہ کرنے کے بعد میرے سامنے تھی ۔
’’ بولیے ۔‘‘
وہ مجھ سے جواب مانگ رہی تھی جب کہ میں اُس کے سرسری دھیمے لہجے کی بردباری ،تحمل اور اندازِ گفتگو کے ٹھہراو میں ٹھہرارہا۔
’’ کیا گفتگو کا یہ بھی انداز ہو سکتا ہے ۔میں نئی دریافتوں کا اسیر ہو ا۔‘‘
’’ جو بھی ہے وہ آپ کا حق ہے ۔‘‘
نگاہ اٹھانے پر صبح ماند پڑگئی ۔میں نے اُ س کی آنکھ کے مستقل حزن سے نکل کر چہرے پر راکھ کے نشان ڈھونڈ لیے ۔
’’ آ پ رو تی رہی ہو ؟‘‘
میں نے کوشش کی کہ میرا لہجہ بے تاثر رہے ۔مگروہ یوں لرزی جیسے اُس کے اندر سے میت اٹھی ہو ۔ پتا چلا وہ خود سے کہنا اور ایساکچھ سننا پسند نہیںکرتی ۔میری غیر جانبدارانہ اداکاری نے اُسے مسرت بخشی ۔معلوم ہو ا وہ اپنا راستہ بنانا بخوبی جانتی ہے ۔۔یہ صاف نظری اُس کی منتخب راہ کا حصّہ تھی ۔لیکن اُس کا قصور یہی تھا کہ وہ معیار کی بلندی پر تھی ۔مختلف ٹیچرز اُس سے حسد کرتے تھکنے لگی تھیں ۔اُن کی آتے جاتے کہی گئی ذومعنی باتوں کا اُ س کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا ۔ایک وقت میں دو یا تین کام کرنا اُ س کا معمول تھا ۔کلاس لیتے ہوئے کسی دوسری جماعت کے کمزور بچوں کوپڑھانا یا غیرنصابی تیاری کروانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سررحمان اضافی کاموں کے لیے اُسے اضافی وقت یا فیس دینے کے روادار نہیں تھے ۔
۔۔پھر پتا نہ چلا اور مجھے اُس کی کھوج کی لگن لگ گئی۔اِس کھوج میں پہلے ہمدردی اورپھر اُس کی قابلیت
۳
کا شہرہ ہوا۔ اُس کے بعد میں اُس کی اِس قابلیت کا اسیر ہوتا چلا گیا ۔بلاشبہ میں نے کسی عورت کو ایسا معیاری اور ہمہ جہت نہیں دیکھا تھا ۔جب کہ عسرت کی زندگی نے اُس کے چہرے سے لے کر مزاج کو بھی جھلسا دیا تھا ۔اُس نے کبھی کسی کے روبرو اپنی ذات اور ذاتی زندگی کا سُر نہیں چھیڑا تھا ۔کبھی اپنے بچوں کی بات بھی نہیں کرتی تھی ۔
وقت دھیمی چال چل رہا تھا یا کم ازکم مجھے ایسا ہی لگتا ۔ڈیڑھ برس کے ابتدائی چند ماہ نکال کے اب کبھی ثمینہ یا والد کے ساتھ ٹھنی نہیں تھی ۔روز رات کو بچوں سے بات کرتا اور اُس کے بعد عفیفہ کو سوچنا کھوجنا میرا دل پسند کام تھا ۔جسے میں رو زانہ کی بنیاد پر کیا کرتا ۔وجہ جاننے کے خیال کو میں نئے خیال میں تبدیل کر دیتا ۔حقیقت تو یہ تھی کہ بحیثیت ِ انسان اُس کی شخصّیت کے انوکھے اسرار کو جان کر میں اوپر والے کی قدرت کو ماننے لگا تھا ۔
میںوہ انسان تھا جو کسی کو شمار میں نہیں لاتا تھا ۔ایسے میں ہمارے معاشرے کے لحاظ سے عورت کو میں بھی وہی درجہ دیتا تھاجو سبھی عام سے مرد دیا کرتے ۔ علم ،قابلیت ،شعور اور محنت جیسے لفظوں کا مطلب پہلی بار سمجھا اور سمجھا بھی کیا خوب ۔۔کہ عورت کوبس ثمینہ جیسی سمجھنے والا کیا ہی خوب سمجھا ۔پہلی بار میری تصحیح ہوئی کہ عورت صرف کپڑے جوتی ۔جیولری اور گپ شپ کا نام نہیں ۔۔بلکہ ہم جیسے کئی ایک مرد جو مردانگی ٹائپ کے زعم میں کھا پی کر گھر چلانے کو انسان کا مقصد سمجھ کرمر جان والوں کو عفیفہ نے سمجھایا کہ انسان پیسہ بنانے اور کھا پی کر مر جانے کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔
عفیفہ کے زیرِ تعلیم بچے بہت جلد اپنے چہروں پر ایک نور سا لیے گھومنے لگے تھے ۔پہلے اُن کا لب و لہجہ
۴
تبدیل ہو اپھر نشست و برخاست بھی بدل گئی ۔اُنھیں پتا چلا کہ کرسی پر بیٹھنے سے لے کر اٹھنے کے کیا آداب ہیں ۔سر عبد الرّحمان تنخواہ بڑھانے کے علاوہ سبھی طرح سے عفیفہ کے معترف تھے ۔اُس کے لیے کچھ آسانیاں ضرور مہیّا کر دی گئی تھیں ۔میں عفیفہ کی ذات کی بدولت نئے جہانوں کی دریافت کرنے میں مصروف تھا کہ والد صاحب مایوس ہو کر میری واپسی کے انتظار سے تھکنے لگے ۔قرینِ قیاس تھا میں اُن کی توقعات پر پورا ترتا اگر عفیفہ نہ ہوتی ۔
۔۔پھرقدرت نے ہمارے لیے نئے فیصلے صادر کرنے شروع کر دیے ۔ظاہری اور باطنی طور پر دو تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔سر رحمان کے سکول کی کوئی پرانی ٹیچر جن کا بات بے بات ذکر بھی سنتے رہے تھے ۔جو نو برس سکول کو دینے بعد کوئی دو سال پہلے کسی تلخی کی وجہ سے سکول چھوڑ کر چلی گئی تھیں ۔میری تحقیق نے بتایا کہ سر اُن پر بہت انحصار کرتے تھے ۔ وہ سکول کے قریب رہائش رکھتی تھیں ۔بڑی عمر کی پختہ خاتون تھیں ۔بچے نہیں تھے ۔اِس لیے مستقل بنیادوں پر سر کا دایاں بازو تھیں ۔
تلخی اور علیحدگی پر سر رحمان اور مس تنویر دونوں کا حال گدڑی او ر فقیر کا سا ہو گیا ۔سوگدڑی یعنی مس تنویر ایک دن چپکے سے واپس اپنی مقبولیت یعنی فقیر عرف سر رحمٰن کے پاس چلی آئیں ۔اُن کے آتے ہی سکول کا منظر نامہ بدل گیا ۔ایک بار پھر سکول کی باگ ڈو ر بہت حد تک اُن کے ہاتھ میں چلی گئی ۔کسی کو کچھ فرق پڑا یا نہیں مگر دو فریق اِس کی زد میں آ کر کچلے جانے لگے ۔پہلے نمبر پر عفیفہ مس تنویر کے حسد کا نشانہ بننے لگی ۔اُس کی قابلیت اور ڈگری دونوں ناقابلِ برداشت ہو گئیں ۔دوسرے نمبر پر وہ بچے جو اعلٰی کی طرف گامزن تھے ایک بار پھر سے رٹہ سسٹم میں داخل کر دیے گئے ۔
۵
سر نے مس تنویر کی رائے کے مطابق سکول کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا گرلز سیکشن تمام کا تمام مس تنویر کے پنجوں میں دے کر سررحمان پُرسکون ہو گئے ۔عفیفہ کو ہائی کلاس سے اٹھا کر پانچویں جماعت دے دی گئی ۔اُس کی اضافی سرگرمیوں کو لعنت ملامت کی گئی اور وہ بھی اسی کے طالب علموںکے سامنے۔۔۔
میں نے اُسے ایک بار پھر اُسی بینچ پر دریافت کیا ۔اُس کی آنکھ کا ٹھہراحزن چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھا ۔جانے کیا ہوا کہ میری آنکھ کی کور اُس درد کی تاب نہ لاکر بھیگ گئی ۔
’’ یہ جگہ آپ کے معیار اور تعلیم کے منافی ہے ۔۔اور آپ کو اِس بات کا کب تک پتا چل جائے گا ؟‘‘
’’ مس تنویر نے پرچے پر بات کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔میں بنا کر دکھا دوں گا ۔ رات تک اپنے سلیبس کا بتا دیجیے گا ۔‘‘
ٹھہرے رہنے کی پرُ زور خواہش کو رد کرتے ہوئے اُس دن رجسٹر میں وقت لکھے بنا ہی چلا آیا ۔رات کو ہر بار کی طرح اُس کے تصّور میں کسی چیز کا تو اضافہ ہوا تھا ۔اُس کی قابلیت اور انسانی خصوصیّات کے سراہے جانے کی سوچ کا دھارا درد میں تبدیل ہو گیا ۔رات کے آخری پہر کا انکشاف بھیانک تھا ۔۔اور پھر میں
رات کے اُس پہر کا درد سہتاہی رہا تھا ۔
’’ کیوں ؟‘‘
صبح آنکھوں میںطلوع ہوئی تو میں اِس ’’کیوں ‘‘کے حصارمیں کشاں کشاں خود کو سکول کے گیٹ پر پایا ۔ستائس اٹھائس سالہ عفیفہ ابراہیم چودھری کو دیکھتے ہی ’’کیوں ‘‘نے اپنی وضاحت جس انداز سے کی۔۔ وہ مجھ جیسے ٖپینتیس سالہ چالاک صحافی کی برداشت سمجھ سے آگے کی چیز تھی ۔سنا تھا کہ جستجو
۶
کا سفر داستان ہوتا ہے ۔’’
’’ پرچہ دکھا دیں ۔‘‘
’’ کیا ہوا ؟‘‘
میرے سکوت پر وہ رک کر مجھے دیکھنے لگی ۔میں دیکھتا رہ گیا کہ وہ گذشتہ رات سے ہی مجھے دیکھتی رہی ہے ۔ایک اور انکشاف میرے اندر چلنے والی ہموار دھڑکن کو درہم برہم کر نے لگا ۔دل کا شور مجھے بدحواس کرنے کے درپے تھا ۔مردانگی کہیں دور کھڑی میرا منہ چڑا رہی تھی ۔
’’ تبریز صاحب مجھے تاخیرہو رہی ہوں ۔‘‘
’’اُس کے بچے انتظار کررہے ہوں گے ۔‘‘
میں عالمِ ظہور میں آتے ہی پھر اُس کی ذات سے ہی وابستہ ہو چکا تھا ۔
پتا چلا محبت ایک خطرناک چیز ہے ۔خالق نے مجھے میرے بُت سے نکال کر ازسرِ نو اُس کے وجود میں قید کر دیا ۔
جانے کیسے اُس دن پہلی بار اُس نے مجھے تفصیلاََگفتگو کا موقع فراہم کیا ۔پتا چلا وہ بھی تھک جاتی ہے ۔اُسے بھی کسی کے سہارے کی ضرورت ہے ۔۔ہاں مگر اعتبار کسی پر نہیں کرتی ۔یہ بھی پتا چلا کہ وہ مرنے کی حد تک بیزار تھی ۔زندگی سے ۔خودسے ۔۔رشتوں سے ۔۔مگر اُس کے اندر کی ماں کو مرنے اجازت نہیں تھی۔
’’ کیا میں اِس کو کہہ دوں ؟‘‘
میں نے اُسے بغور دیکھتے ہوئے سوچا ۔
۷
’’ سر صفدر ۔۔۔‘‘
اُس کے ادھورے جملے نے میرے اندر دھواں بھر دیا ۔
وہ کہاں کہاں کس کس محاز پر لڑ رہی تھی ۔
’’ مس تنویر کے بعد یہ وہ شخص تھا جس پرسر رحمان بہت اعتبار کرتے تھے ۔سر رحمان کے مقابلے پر ڈاڑھی تھی ۔اسلامیات کے ٹیچر تھے ۔۔اور جوش بیاں اور خطابت کے علاوہ اپنے کرادار کے لیے بے شمار متقدین رکھتے تھے ۔
’’ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ میں صفدر کو دیکھ لوں گا ۔‘‘
’’آپ کا دیکھنا کسی سے دیکھا نہیں جائے گا ۔۔اور پھر مجھے جس طرح دیکھا جائے گا ۔یہ الگ ۔۔‘‘
’’ آپ کیا کرنے والی ہو مس ۔۔؟‘‘
’’ پتا نہیں کیا کروں گی ۔۔؟کیا کرسکتی ہوں ؟معجزوں پرمجھے یقین نہیںرہا ۔‘‘
وہ چلی گئی اور اپنے پیچھے اپنا ’’ رہا‘‘ چھوڑ گئی ۔میں جو اُس کی شخصیت میں پنہاں روحانیّت کا اسیر تھا ۔جس نے مجھے قدرت کے قریب کیا ۔اُسی روحانیت کو بکھرتے دیکھ رہا تھا ۔رات بھر مخصوص منزلوں کا اعادہ کرنے کے بعد میں سمجھ چکا تھا کہ سب کچھ محض ایک کھیل نہیں ۔کمرے میں ہولناک سنّاٹا تھا ۔کمرے کے ساتھ ساتھ میرے اندر فون کی گھنٹی سے ارتعاش پیدا ہوا ۔
’’ بیٹا لوٹ آو ۔‘‘
میں بولا اور پھر بولتا چلا گیا۔جانے میرے لہجے میں کیا تھا کہ والد صاحب کا وہ لہجہ سننے کو ملا جو میری عمر میں نیا تھا ۔یہاں تک کے تعطیل کا دن تمام ہوا ۔کمرے میںاندھیراچھا رہا تھا ۔میں نے مٹھی
۸
میں دبی کرنیںمیز پر رکھ دیں۔ہاں کل سہہ پہر تین بجے غلطی سے اُس کا دوپٹہ میری مٹھی میں آگیا تھا ۔تب سے اب تک میں اُس ہاتھ کو محسوس کر رہا تھا ۔کرنوں نے میرے اندر اور باہر کمرے کو بھی اجال دیا ۔
اگلے روز میری بات کو تحمل سے سن کر اُس نے ایک جملہ کہا اور کلاس کے لیے چلی گئی ۔وہ جملہ میرے گرد ونواح میں یوں گرد ش میںتھا ۔۔جیسے کوئی بگولہ میرے ارد گرد ناچ رہا ہو ۔۔جس سے میرا دم گھٹتا جا رہا تھا ۔
’’ آپ میری دھن میں رہنا بند کر دیں ۔‘‘
اُس کی آگاہی نے مجھے میرے خول میں بند کر دیا ۔
شام تک میں خود کو سمجھا چکا تھا کہ بہرحال اِس میں کچھ خاص نہیں ۔۔مجھے علم تو ہے کہ وہ کوئی معمولی عورت نہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ اُس نے میری محبت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی رد کر دیا ۔کیونکہ اُس کے خیال میں یہ میراذاتی فعل اور سوچ ہے ۔
’’ مجھے محبت سے بڑھ کر آپ سے عقیدت ہے ۔‘‘
’’ اوہ تو یہ مسکراتی بھی ہے ۔‘‘
میں نے پہلی بار اُسے مسکراتے دیکھ کر سوچا اور پھر یہ بھی سوچا کہ اِس کی آنکھیں تو مسکراتی نہیں ۔میں ایک بار پھر سے اُسی کا اسیر ہو گیا ۔محبت واقعی کسی کو تبدیل کرسکتی ہے ؟وہ دو برس مجھ پر انکشافات کا دور تھا ۔گھر واپس آ کر والد صاحب سے معافی مانگی ۔ثمینہ سے بھی اپنا رویہ بہتر کیا ۔
’’ عفیفہ تم نے مجھے جانور سے انسان بنا دیا ۔‘‘
۹
میں اب ایک نئی طرح سے اُس کی ذات میں تھا ۔
’’ میں آپ کے لیے نئی بہتر ملازمت بندوبست کر چکا ہوں ۔یہاں مس تنویر یا صفدر سے کب تک نبرد آزما رہیں گی ۔‘‘
میری بات کے جواب میں اُس نے مجھے بتایا کہ اب وہ اپنے اندر صرف ایک ماں کو دیکھتی ہے ۔
اُس کے جواب نے مجھے ہلا دیا ۔وہ کتنی دور تک ذہنی رسائی رکھتی تھی ۔چند روز کی رخصت کے بعد میں سرعبدالرحمان سامنے تھا ۔عفیفہ کو قائل کرنا چاہتا تھا ۔فائنل امتحان میں مس تنویر نے اُسے خوب رگیدا ۔اُن کی شہہ پر جونئیر ٹیچرز نے بھی بہتی گنگا میں اچھے سے ہاتھ دھوئے ۔
’’ آپ کیسے اور کیوں نہیں سمجھ پا رہیں کہ یہ چھوٹی جگہ ہے ،ایک عمر بھی بتا دیں گی تو پیسے ہاتھ آئیں گے نہ ہی عزت ۔۔۔میں نے سرگوشی کی ۔ایک دو ٹیچرز کی موجودگی مسلسل بنیاد پر تھی اور مجھ سے مزید صبرکا یارا نہیں تھا ۔اسی اثنا سر عبدالرّحمان گزرتے گزرتے ہماری طرف آ گئے ۔ابھی کچھ دیر پہلے بھی گزرتے ہوئے آئے تھے ۔اب کہ پھر اِدھر آ گئے ۔عفیفہ جانے کس سوچ میں تھی یا کیا سوچ کر کھڑی نہ ہوئی ۔۔باقی ٹیچرز بھی بیٹھی رہیں جو کہ جونیئرز تھیں ۔
’’ مس عفیفہ آپ میرے دفترمیں آئیں ۔‘‘
جانے وہ کس مقصد سے آئے تھے مگر میں نے جاتے ہوئے اُن کے رہ جانے والے تیور ملاحظہ کر لیے ۔میں غیر محسوس انداز سے عفیفہ کے پیچھے دفتر میں داخل ہوا ۔وہاں پہلے سے ایک دو میل اساتذہ موجود تھے ۔سر نے انھیں جانے سے روکا اور عفیفہ کو بیٹھنے کے لیے نہ کہا ۔۔اور جو کہا
۱۰
وہ کیا ہی کہہ ڈالا ۔
’’ مس آپ کو قابلیت اور اخلاقیات کا معیار سمجھتا ہوں ۔آپ ہی جب میرے آنے پر کھڑی نہیں ہوئیں تو آپ کی دیکھا دیکھی جونئیرز نے بھی وہی کچھ کیا ۔یہ آپ کون سی روایت ڈالنا چاہ رہی ہیں ۔‘‘
’’ سرآپ دو منٹ پہلے ہی تو گئے تھے ۔بلکہ وہیں سامنے کھڑے تھے ۔‘‘
میں نے مداخلت کی تو سر نے جو غصّہ پیا وہ اُن کے چہرے کی سرخی سے جھلکنے لگا ۔اس کے بعد چار مرد حضرات کے سامنے عفیفہ نے کھڑے کھڑے وہ سب سنا جس کی وہ ہرگز مستحق نہیں تھی ۔
’’۔۔۔ میں رحمٰن ہوں رحمٰن ہی رہوں گا ۔یہ یاد رکھیں ۔اب آپ جا سکتی ہیں ۔‘‘
سر کے اس جملے کے بعد رخصّت ہوتے ہوئے چند پل کے لیے میری نظر اُن کی شاہانہ کرسی کے پیچھے لگی سورہ الرحمٰن کی تختی پر ٹھہر ی تھی ۔دیکھا تو دکھائی دیا کہ چند اور لوگوں کی نگاہ بھی اُسی تختی پر تھی ۔
آنے والے دو تین روز میں یہ بات مس تنویر کے منہ سے بار بار تذکرے کے طور پر نشر ہوتی رہی ۔میں دو دن کی چھٹی کے بعد سکول ایک عزم لے کر آیا تھا کہ یہ اُس سکول میں میرا اور عفیفہ کا آخری دن ہو گا ۔بیٹی علیل نہ ہوتی تو دو دن کیا ایک دن کی چھٹی نہ کرتا ۔
بہرحال انکشاف حیرت انگیز طورپر خوش کُن تھا ۔کچھ صدمہ بھی ہوا ۔عفیفہ سکول چھوڑکرجا چکی تھی ۔۔اور سر نے اُس کی رہ جانے والی تنخواہ نہیں دی ۔
میرے فون کے جواب میں اُس نے اپنے گھر کے قریب ایک انگلش میڈئم سکول کا نام لیتے ہوئے بتایا کہ وہ وہاں کام کر رہی ہے۔اصرار کے باوجود وہ میرے ادارے کے ساتھ وابستہ نہیں ہونے والی تھی ۔گھر اُس کے جا نہیں سکتا تھا ۔سوکچھ روز بعد اُس کے سکول میں تھا ۔۔اور اُس کی حالت
۱۱
پہلے سے برُی دیکھ کر میرا دل برُاہی نہیں ہوا طیش بھی آیا ۔وہ بخار میں بھی چھٹی کے دن کام کر رہی تھی ۔پی ایچ ڈی استاد کو دروازے سجانے پر لگا رکھا تھا ۔
’’ آپ میرے ساتھ ایسا رویہ روا رکھنے کا حق نہیں رکھتے ۔‘‘
عفیفہ کے جواب سے مجھے اپنی حیثیت اور غلطی کا اندازہ ہوا ۔‘‘
میں نے اُس کے لیے دو برس میں یہی کیا تھا کہ ابتدا ئی چند ماہ کے بعد اُس کے مخالف ٹولے سے ہاتھ چھڑا لیا تھا ۔جب کہ اُس کے ساتھ نے مجھے دو پاوںوالے جانور سے انسان بننے میں مدد دی ۔۔اور آج میں غصّے کا حق استعمال کر رہا تھا ۔۔نہیں جانتا تھا کہ اتنے چھوٹے بچوں کے ساتھ وہ صبح سویرے سب سے پہلے کیسے سکول پہنچتی ہو گی ؟کیوں کر ایک قلیل تنخواہ میں زندگی بسر کر رہی ہو گی ؟ کس طرح اکیلی تین بچوں کے ساتھ رہتی ہو گی ؟گھر کے کام جن کامیری بیوی ملازمہ کے باوجود رونا روتی رہتی تھی ۔۔کیسے،کیوں کر نبھاتی ہو گی ۔۔؟
تین گھنٹوں کے بعد جب میں اپنے دوست سے میٹنگ کے بعد وہاں کی ایک مارکیٹ سے نکل رہا تھا تو عفیفہ کو سبزی کے بڑے بڑے شاپنگ بیگ اٹھائے دوپٹہ درست کرتے کبھی بیگ ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے تیز تیز چلتے دیکھا تو سمجھ نہ سکا خود کو کتنی بار لعنت ملامت کروں ۔مجھے کیوں اُس کی زندگی سکول کی حد تک محدود دکھائی دیتی رہی ۔ایک کلومیٹر کے قریب پیدل چلنے کے بعد وہ ایک گھر کے دروازے کو چابی سے کھول کر اندر داخل ہوئی ۔۔جی چاہا اُس کے ساتھ ہی گھر کے اندر کی زندگی کو دیکھ لوں ۔۔مگر عفیفہ کے جگائے ضمیر نے فوراََ دستک دی ۔
اُس کو اُس کی زندگی میں دیکھنا اور بات ۔۔کھوجنا اور بات تھی ۔‘‘
۱۲
میری محبت ایک پہاڑ کی مانند میرے سامنے کھڑی تھی ۔میں اِس کا منوں بوجھ اپنے سینے پر محسوس کرتا رہا ۔حل ڈھونڈتے اُس رات کے بعد ایک مایوس صبح طلوع ہوئی ۔
’’۔۔ تو تم کیا اُس سے شادی کرنا چاہتے ہو ۔یا صرف مدد ۔۔‘‘
’’ ابّو کے سامنے اپنے دوبرس اور تمام اعترافات رکھ دیے تھے ۔‘‘
’’ صرف مدد ۔۔‘‘
میں نے دروغ گوئی کو مصلحت جانا ۔
’’ ٹھیک ہے تم نے جانا تھا ۔۔تم دبئی جاو ۔عفیفہ کی مدد عزت کے ساتھ ہوتی رہے گی ۔میرا وعدہ ۔‘‘
’’ مگر میں اب نہیں جانا چاہتا ۔‘‘
’’اِ ُس کے اور تمھارے دونوں کے لیے ہی بہتر ہے کہ چلے جاو ۔جب تک وہ مستحکم ہو جائے گی ۔۔پھر آ کر دیکھ لینا ۔‘‘
میں ایک بار پھر ایک مایوس کنُ صبح میں طلوع ہوا تھا ۔ دبئی میں بیتے دو برس میرا منہ چڑا رہے تھے ۔جب جب میں خود کو نیک اور پارسا مان کر ،مکمل جان کر ہر برا کام ضروری سمجھ کر کرتا رہا تھا ۔۔لمحوں کے سرکتے عفیفہ ابراہیم چودھری کی یاد پر تفریح غالب آتی چلی گئی تھی ۔۔ شاید اوپر والی ذات کو میری رسوائی منظور نہیں تھی ۔سو مجھے ایک بار پھر وہیں سے شروع کرنے کے لیے کھڑا کر دیا گیا تھا ۔
’’ ۔۔آپ نے تو کہا تھا کہ وہ آپ کے پاس دفترمیں ہے ۔۔‘‘
’’ وہ آئی تھی مگر ایک ماہ بعد ہی چلی گئی ۔۔تم نے کبھی کچھ کہا نہیں تھا سو مجھے لگا کہ ۔۔۔‘‘
والد صاحب کے سچ تک میں رسائی نہ کر پایا تو چپ چاپ اپنے قدموں کی چاپ میں گم ماضی کو کھنگالتا
۱۳
ایک پارک کے بینچ پر بیٹھ گیا۔ یہاںایک پانچ ساڑھے پانچ برس کا قصّہ تھا ۔دو برس میرے سامنے تھے ۔دو برس کا قصّہ سب عیاں تھا ۔بِیچ کے ڈیڑھ برس کی کہانی میں ایسا کیا ہوا کہ عفیفہ سویراابراہیم چودھری بن گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
ناولٹ ۔۔۔۔۔۔۔میڈم (ایک حقیقت پر مبنی کہانی)
مصنفہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عندلیب بھٹی