رشتۂ جاں ٹوٹنے پر۔ ۔ ۔

رشتۂ جاں ٹوٹنے پر۔ ۔ ۔

دلِ آئینہ کو ذرا غور سے دیکھنا تو
مری ذات کے رنگ اب تک
ترے گرد پھیلے ہوئے ہیں
ترے ہاتھ کی پشت پر
میری سانسیں رکھی ہیں
مرے لمس کی سب تمازت
ابھی تک تری آنکھ میں ہے
مری حسرتیں، خواہشیں
تیری پوروں پہ بکھری ہیں
مری شبنمی خوشبوئیں
گھر کے آنگن میں ہی
راستہ بھول کر گر گئیں
میرے آنسو بھی بستر کی
کچھ سلوٹوں پر پڑے ہیں
مرا لہجہ جو
تیرے ہونٹوں کے نم سے کہیں کھو گیا تھا
وہ بھی تو وہیں پر رکھا ہے
جہاں دھند کے بھاری پردے گرے ہیں
وہیں کھڑکیوں میں اکیلی
مری شام بھی بیٹھی ہے
تیری مٹھی میں میری سحر
اب تلک سو رہی ہے
ابھی تک ترے آئینوں میں
مرا عکس زندہ ہے۔ ۔ ۔

ناہید ورک

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان