رشتہ ء دل کبھی آزار بھی

رشتہ ء دل کبھی آزار بھی ہوسکتا ہے
سرد لہجہ کبھی تلوار بھی ہوسکتا ہے

پختگی اور بھی درکار ہے جذبوں کے لیے
کانچ کا پُل ہو تو مسمار بھی ہوسکتا ہے

اس قدر سرد نگاہی سے نہ دیکھو ہم کو
اتنی نفرت سے کبھی پیار بھی ہوسکتا ہے

آپ رہنے دیں تکلف یہ مسیحائی کا
اتنا احسان گرانبار بھی ہوسکتا ہے

یہ ضروری تو نہیں روزسنے میری کتھا
وہ مرے درد سے بے زار بھی ہوسکتا ہے

واپسی کا کوئی رستہ بھی بچا کر رکھنا
آخری وقت میں انکار بھی ہوسکتا ہے

صائمہ یہ تو کبھی پیار میں سوچا ہی نہیں
یہ تعلق کبھی بے کار بھی ہوسکتا ہے

سیدہ صائمہ کامران

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی