رستے سے جو پتّھر کو ہٹا سکتا تھا

رستے سے جو پتّھر کو ہٹا سکتا تھا
اک شخص کی وہ جان بچا سکتا تھا

اب خود کو اُٹھایا نہیں جاتا اُس سے
وہ شخص جو ہر بوجھ اُٹھا سکتا تھا

اب پاس ہے ، لیکن نہیں سمجھا اُس نے
جو دُور سے اندازہ لگا سکتا تھا

مُلّا کو ہے جنّت کی تمنّا ، اور میں
شاعر تھا ، جہنّم میں بھی جا سکتا تھا

اب اُس کی بھی آنکھوں میں ہیں آنسو کیفی
وہ شخص بھی لوگوں کو ہنسا سکتا تھا

محمودکیفی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے