رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے

رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
عظمت عشق بڑھا دی ہم نے

جب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹا
کی گلستاں میں منادی ہم نے

آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی
اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے

جب چمن میں نہ کہیں چین ملا
در زنداں پہ صدا دی ہم نے

دل کو آنے لگا بسنے کا خیال
آگ جب گھر کو لگا دی ہم نے

اس قدر تلخ تھی روداد حیات
یاد آتے ہی بھلا دی ہم نے

حال جب پوچھا کسی نے باقیؔ
اک غزل اپنی سنا دی ہم نے

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے