رسم آوارگی سوغات نہیں

رسم آوارگی سوغات نہیں ہوتی ہے
میری صحرا سے ملاقات نہیں ہوتی ہے

بس سوالات کے دیتا ہے جوابات مجھے
بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

اپنی حسرت کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نے
اب دلاسوں سے ملاقات نہیں ہوتی ہے

میں نے سوچا نہ تھا دنیا سے کہوں گا یہ بھی
آج کل تجھ سے مری بات نہیں ہوتی ہے

یہ تو بادل ہے جو رستے سے بھٹک جاتا ہے
ورنہ صحراؤں میں برسات نہیں ہوتی ہے

ہمانشی بابرا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی