اپنے ہونٹوں پہ ترا نام

اپنے ہونٹوں پہ ترا نام نہ آنے دوں گی
میں ترے ہجر کو بیکار نہ جانے دوں گی

اب نہ وہ تو ہے نہ وہ عشق جو پہلے تھا کبھی
تو اگر دور بھی جائے گا تو جانے دوں گی

آنسوؤں میں بہا دوں گی مرے دل کے ٹکڑے
اپنی آنکھوں کو ترا رنج منانے دوں گی

میرے محبوب ترے بعد کبھی اپنا حال
نہ سناؤں گی کسی کو نہ سنانے دوں گی

تو اگر سامنے آیا تو بہت دیکھوں گی
اور اگر آنکھ چرائے گا چرانے دوں گی

ہمانشی بابرا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی