اس طرح مجھ کو کسی

اس طرح مجھ کو کسی دل میں جگہ دی گئی ہے
جیسے بچی کوئی کوٹھے پہ بٹھا دی گئی ہے

بس تری یاد ہی باقی تھی مرے ہاتھوں میں
اب تری یاد بھی ہاتھوں سے گنوا دی گئی ہے

وہ کسی اور سے منسوب ہوئی ہے ایسے
جیسے بیوہ کسی ڈولی میں بٹھا دی گئی ہے

ذہن کردار سے تبدیل ہوا لوگوں کا
بس اسی جرم میں کاتب کو سزا دی گئی ہے

ہمانشی بابرا

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے