رائیگاں گفتگو کو دفن کریں

رائیگاں گفتگو کو دفن کریں
وصل کی آرزو کو دفن کریں

سانس جب سرد آہ کو کھینچے
اس گھڑی ہاؤ ہو کو دفن کریں

کوئی جگنو ہمارا غم سمجھے
چاند کی جستجو کو دفن کریں

آئنے میں دراڑ پڑ جائے
حسرتِ خوبرو کو دفن کریں

کب تلک نیزے سر تلاش کریں
کب تلک ہم لہو کو دفن کریں

کیا کِیا جائے بےسبب عشّاق
حسن کی آبرو کو دفن کریں

پتلیاں دشت سینچ لیں, ارشاد
آنکھ میں آبجو کو دفن کریں

ارشاد نیازی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے