رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں

رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں

ہر مسافر یہاں لٹیرا ہے

معبدوں کے چراغ گُل کر دو

قلب انسان میں اندھیرا ہے

جامِ عشرت کا ایک گھونٹ نہیں

تلخی آرزو کی مینا ہے

زندگی حادثوں کی دنیا میں

راہ بھولی ہوئی حسینہ ہے

نور و ظلمت کا احتساب نہ کر

وقت کا کارو بار سانجھا ہے

اس طلسمات کے جہاں میں حضور

کوئی کیدو ہے کوئی رانجھا ہے

ساغر صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے