رہا میں تو عزت کا اعزاز کرتا

رہا میں تو عزت کا اعزاز کرتا
چلا عشق خواری کو ممتاز کرتا

نہ ہوتا میں حسرت میں محتاج گریہ
جو کچھ آنسوئوں کو پس انداز کرتا

نہ ٹھہرا مرے پاس دل ورنہ اب تک
اسے ایسا ہی میں تو جانباز کرتا

جو جانوں کہ درپے ہے ایسا وہ دشمن
تو کاہے کو الفت سے میں ساز کرتا

تو تمکین سے کچھ نہ بولا وگرنہ
مسیحا صنم ترک اعجاز کرتا

گلوگیر ہی ہو گئی یاوہ گوئی
رہا میں خموشی کو آواز کرتا

زیارت گہ کبک تو ہو بلا سے
ٹک آ میر کی خاک پر ناز کرتا

میر تقی میر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا