عید آئندہ تک رہے گا گلا

عید آئندہ تک رہے گا گلا
ہو گئی عید تو گلے نہ ملا

ڈوبے لوہو میں دیکھتے سرخار
حیف کوئی بھی آبلہ نہ چھلا

ابر جاتا رہا رہیں بوندیں
اب تو ساقی مجھے شراب پلا

میر افسردہ دل چمن میں پھرا
غنچۂ دل کہیں نہ اس کا کھلا

میر تقی میر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی