اے نکیلے یہ تھی کہاں کی ادا

اے نکیلے یہ تھی کہاں کی ادا
کھب گئی جی میں تیری بانکی ادا

جادو کرتے ہیں اک نگاہ کے بیچ
ہائے رے چشم دلبراں کی ادا

بات کہنے میں گالیاں دے ہے
سنتے ہو میرے بدزباں کی ادا

دل چلے جائے ہیں خرام کے ساتھ
دیکھی چلنے میں ان بتاں کی ادا

خاک میں مل کے میر ہم سمجھے
بے ادائی تھی آسماں کی ادا

میر تقی میر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا