رات کا پچھلا پہر

رات کا پچھلا پہر ہے جاناں
تیری یاد کے بستر پر ہم
تنہا ،گم سم ، آنکھیں موندے
تجھ کو ہی تو
سوچ رہے ہیں
دن کے ہنگاموں میں کھو کر
تیرے بن بھی جی لیتے ہیں
لیکن جاناں !
شب کے اس پل چپکے چپکے
آنکھ سے بہنے والے آنسو
تجھ کو ہر سُو
کھوج رہے ہیں

عاصمہ فراز

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

آمد

چلو چلیں