تجھ کو فرصت سے سوچتا ہے کوٸی

تجھ کو فرصت سے سوچتا ہے کوٸی
اس طرح تجھ کو چاہتا ہے کوٸی

تو نہیں ہے مگر ہر اک رہ میں
آج بھی تجھ کو دیکھتا ہے کوٸی

غم کے عالم میں رات بھر تنہا
تیری خاطر ہی جاگتا ہے کوٸی

جس کو دیکھے زمانہ بیت گیا
پھر اسی کو ہی کھوجتا ہے کوٸی

جی تو لیتے ہیں ہم جدا ہو کر
دل سے لیکن نہ بھولتا ہے کوٸی

سانس لیتا ہے پر نہیں زندہ
زندگی یوں گزارتا ہے کوٸی

جانے والے سے جا کے کہہ دو یہ
تجھ کو دل سے پکارتا ہے کوٸی

عاصمہ فراز

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا