قصہ گو

قصہ گو

وہی قصہ گو

جو اک روز قصہ سناتے سناتے

کسی پیاس کو یاد کرتا ہوا،

اٹھ گیا تھا

پھر اک روز لوگوں سے یہ بھی سنا تھا

کہ وہ،

پیاس ہی پیاس کی رٹ لگاتا ہوا

اک کنویں میں گرا تھا

ادھر کچھ دنوں سے

یہ افواہ گردش میں ہے

کہ وہ قصہ گو

جسے بھی دکھائی دیا ہے

وہ بس

پیاس ہی پیاس کی رٹ لگاتا ہوا

کنویں کی طرف جا رہا ہے

آشفتہ چنگیزی

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں