قطرے کی آرزو سے گہرا آئنہ بنے

قطرے کی آرزو سے گہرا آئنہ بنے
آئنہ ساتھ دے تو نظر آئنہ بنے

منزل کے اعتبار سے اٹھتا ہے ہر قدم
رہرو بقدر ذوق سفر آئنہ بنے

ہم بھی مثال گردش دوراں ہیں بے مقام
پتھر ادھر بنے تو ادھر آئنہ بنے

ہر زخم دل میں زیست نے دیکھا ہے اپنا عکس
ہم آئنہ نہیں تھے مگر آئنہ بنے

ملتی ہے دل کو محفل انجم سے روشنی
آنکھوں میں شب کٹے تو سحر آئنہ بنے

ساحل کی خامشی کا فسوں ٹوٹنے لگے
دریا کا اضطراب اگر آئنہ بنے

باقیؔ کسی پہ راز چمن کس طرح کھلے
جب ٹوٹ کر نہ شاخ شجر آئنہ بنے

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے