قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آ ہستہ آہستہ

قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آ ہستہ آہستہ
تو چھٹ جاتا ہے سب گردو غبار آ ہستہ آہستہ

بھری آنکھوں سے ہو کے دل میں جانا سہل تھوڑی ہے
چڑھے دریاؤں کو کرتے ہیں پار آہستہ آہستہ

نظر آتا ہے تو یوں دیکھتا جاتا ہوں میں اُس کو
کہ چل پڑتا ہے جیسے کاروبار آہستہ آہستہ

ْاِدھر کچھ عورتیں دروازوں پر دوڑی ہوئی آئیں
اُدھر گھوڑوں سے اترے شہسوار آہستہ آہستہ

کسی دن کار خارنہ ء غزل میں کام نکلے گا
پلٹ آئیں گے سب بے روزگار آ ہستہ آہستہ

تیرا پیکر خدا نے بھی تو فرصت میں بنایا تھا
بنائے گا ترے زیور سنار آہستہ آہستہ

مِری گوشہ نشینی ایک دن بازار دیکھے گی
ضرورت کر رہی ہے بے قرار آہستہ آہستہ

تہذیب حافی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا