دنیا میں گھر بنانے سے کہیں مشکل کام اُس کیلئے اچھی زمین کاڈھونڈنا ہے جو اب پاکستان میں تقریبا خالص خوراک کی طرح نایاب ہوتی ہوتی معدومیت کے خطرے کا شکار ہے۔گھر بنانا اور اُس میں اطمینان سے رہنا تقریبا ہر عاقل بالغ بندے کا شادی کے بعد دوسرا سپنا ہوتا ہے جس کیلئے وہ تن من دھن کی بازی لگاتا ہے تاکہ آئے روز کی ہجرت اور سامان کی منتقلی سے نجات ملے۔میرے دوست آثار ِ گم گشتہ صاحب جو پکوڑے سموسے کے کاروبار سے گزشتہ بیس برس سے وابستہ ہیں اُن کا بھی یہی سپنا تھا جو اُنہیں اپنے والد مرحوم سے ورثے میں ملا تھا۔ اُن کے والد مرحوم ترکے میں دو ہی چیزیں چھوڑ کر گئے تھے جن میں ایک پکوڑوں کی ریڑھی اور دوسرا اپنا مکان بنانے کا سپنا تھا، جنہیں اُن کے ہونہار فرزند آثارِ گم گشتہ صاحب اپنی جان سے بھی عزیز سمجھتے تھے۔
مجھ سے جب بھی اُن کی اس بابت بحث ہوتی تو میں اُنہیں یہی کہتا کہ ” دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ”، کہاں پکوڑوں کی ریڑھی اور کہاں اپنا گھر، ایسے سپنے کو سینچنا چھوڑ دو اور اُن کی جگہ اصلی مکان یعنی قبر کی زمین کی فکر کرو کہ سنا ہے آج کل وہ بھی آسانی سے نہیں ملتی لیکن آگے سے ایک ہی جواب کہ غریب انسان کے پاس بھوک کے بعد دوسری چیز سپنے ہوتے ہیں تم وہ بھی مجھ سے چھین لینا چاہتے ہو۔ اب ظاہر ہے میں غربت کے بارے میں تو کچھ کہہ نہیں سکتا البتہ سپنے دیکھنے کے بارے میں تو اُسے "مت” دے سکتا ہوں کہ اپنی اوقات اور سہولت کے مطابق سپنے دیکھو ورنہ اپنا ہی نقصان کروگے سو اُس کیلئے میں بوقع بموقع اُس کے پاس حاضر ہوکر ایک پاؤ پکوڑے کھاتے ہوئے اُس کے سپنوں کی پٹاری کو خالی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔مگر اس کی ضد کے آگے جب میری ایک نہ چلی تو میں نے اپنے جاننے والے سے جو ٹھیکیدار ہیں اُن سےمکان کیلئے درکار بنیادی اجزاء کی معلومات لینے کیلئے حاضر ہوا۔اُنہوں نے مجھے سیمنٹ ریت بجری اینٹ و دیگر اشیائے ضروریہ کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ آگاہی فراہم کرنے کے بعد پوچھا کہ زمین کتنی اور کہاں ہے؟ اس موقع پر میں نے وہی جواب دیا جو ایک شریف انسان دیتا ہے کہ زمین ابھی لینی ہے مگر کتنے میں ملے گی اور کہاں ملے گی اس کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ میری بات سُن کر اُنہوں نے پہلے تو اپنے غصے کو دانتوں تلے چبا یا اور پھر مجھے ” ارتھ شاستر” کا بتایا کہ اُن کے پاس جاؤ۔میں نے پوچھا یہ کوئی دماغ کے ڈاکٹر ہیں؟ تو جواب میں کہا کہ یہ رئیل اسٹیٹ ایجنسی کا نام ہے جو آپ کو پلاٹ خریدنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ہم دونوں صاحبان ” ارتھ شاستر” کے دفتر میں پہنچے تو آگے ایک نوخیز دوشیزہ نے کورنش بجا کے ہمارا استقبال کیا اور ہم نے جب اُسے بتایا کہ فدویان ایک عدد مکان کے واسطے ایک عدد پلاٹ خریدنے کے سلسلے میں حاضر ہوئے ہیں تو بہت خوش ہوئیں کہ گویا مراد بر آئی ہو۔اُنہوں نے پہلے تو ہم دونوں کیلئے ایسا ٹھنڈا ٹھار مشروب منگوایا جس کو پینے کے بعد جگر اور معدے کی ساری گرمی دور ہوگئی اور پھر ہم سے تفصیل پوچھی جس کے جواب میں اُسے میں نے حدودِ اربعہ کچھ ایسے سمجھایا کہ پلاٹ اُس جگہ واقع ہو جہاں سورج کے طلوع ہوتے ہی روپہلی کرنیں چھن چھن کر اُس کے در وبام کو روشن کردیں۔ اُس نے مجھے وہیں روکا اور پھر ایک نوٹ بک نکال کر اُس پر یہ سب لکھ کر بولی کہ ” آگے چل”۔” دیکھیں جی پلاٹ ایسا ہو کہ جب میں گھر بناؤں تو شمال سے آنے والی بادِ نسیم کے جھونکے میرے آنگن سے یوں گزریں کہ مجھے میرا ماضی بھول جائے اور دل کے سارے زخم مندمل ہوجائیں”۔ اُس نے نہایت غور سے پہلے میرے دوست کی یہ آرزو نما تفصیل سنی اور پھر ” ویری رائیٹ” کہہ کر اُسے بھی لکھ لیا۔
اس سے قبل کہ سلسلہ جنبانی مزید آگے بڑھتا اور جنوب کی سمت کا احوال بیان کیا جاتا، ایک نہایت ہی خوبرو نوجوان جس کی عمر بائیس سے تئیس برس کے درمیان اور قد اعضاء کے متناسب تھا وہ ایک فائل لیکر اندر آیا اور ہمیں تھما دی۔ میں نے وہ فائل ” ابتدائی معائنے” کیلئے کھولی لیکن جیسے ہی زبانِ افرنگی پر نظر پڑی تو فورا ” نظر کا چشمہ گھر بھول آیا” کا بہانہ تراش کر اُسے اپنے دوست آثارِ گم گشتہ کے حوالے کردیا جو میری طرح جماعتِ ہشتم میں سکول سے بوجہ طویل غیر حاضری نکال دیے گئے تھے ۔ میرا مقصد یہی تھا وہ اس فائل کا تفصیلی معائنہ فرما کر تمام احکامات موقع پر ہی صادر فرما دیں۔ انہوں نے بھی اک نگاہِ بے التفات اُس حقیر فائل پر ڈالی اور پھر مجھے آنکھ مار تے ہوئے اُس چنچل حسینہ سے پوچھا کہ اگر فائل کی تحریر کا لب ِ لباب بزبانِ اردو بیان کردیا جائے تو بہت مناسب رہے گا۔ اُس حسینہ دلربا نے بھی اس دلیل پر صاد فرمایا اور پھر ایک ہوش ربا تبسم کے ساتھ ہمیں مبلغ ” پچاس ہزار روپے” باہر کاؤنٹر پر جمع کروانے کو کہا جو میرے دوست نے فورا موقع پر ادا کرکے اُس کی پکی رسید اپنے بٹوے کی اُس جیب میں یوں سنبھال کے ڈال لی جیسے عاشق اپنے محبوبہ کی تصویر کو بٹوے کے اُس خانے میں رکھتا ہے جو عام لوگوں کی نگاہ سے زیادہ تر اوجھل ہوتا ہے۔
یہ ضروری اور اہم قانونی کاروائی پوری ہونے کے بعد اُس دل آراء نے اپنی مژگاں کے ناوک سے ہمیں مرغِ نیم بسمل کرتے ہوئے اُس پلاٹ کے جنوب اور مغرب کی سمتوں کے متعلق کچھ بتانے کی کوشش کی جو ہم مقدور بھر کوشش کے باوجود بھی نہ سُن پائے کہ اُس پری وش کے حسن نے تمام ہوش رخصت کردیا تھا۔ اس سے پہلے کہ ہم تصورِ ماہتاب میں کھو کر کہیں کے کہیں نکل جاتے اُس نے ہمارے ہوش یہ کہہ کر ٹھکانے لگا دیے کہ ” آپ کا پسند شدہ پلاٹ پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر آپ کو مبلغ دو کروڑ پچاس لاکھ میں دیا جائے گا جس میں سے پچاس ہزار روپے آپ نے بیعانہ کی مد میں ادا کردیے ہیں اور جیسے ہی آپ بقیہ دو کروڑ چالیس لاکھ پچاس ہزار روپے ادا کریں گے ، پلاٹ کا قبضہ آپ کو دے دیا جائے گا”۔ یہ خبرِ جانکاہ سُن کر میرے تو چودہ طبق وہیں روشن ہوگئے جبکہ آثارِ گم گشتہ صاحب کے منہ کو ایک ایسی چپ لگی جیسے بچپن سے گونگے ہوں۔ ” کیا ہمیں ہمارے پچاس ہزار روپے واپس مل سکتے ہیں؟” میں نے اُس حسینہ سے پوچھا تو اُس نے مسکرا کر بس اتنا کہا ” جی نہیں۔ ہمارے ہاں جو مشین ہے اُس میں صرف پیسہ ڈالنے کی سہولت ہے نکالنے کی نہیں۔ آپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ۔ اپنا ، اپنے گھر والوں اور دوستوں کا بہت خیال رکھیے گا۔ اللہ حافظ”۔ ” مگر ہمارے پاس تو جانے کا کرایہ بھی نہیں ہے”۔ میں نے اُس بے وفا کو بتانے کی کوشش کی،” کوئی بات نہیں۔ واک کرکے چلے جائیے گا۔ واک کرنے سے ٹینشن ، بلڈ پریشر اور شوگر تینوں کنٹرول میں رہتے ہیں”۔اُس کی بات کیونکہ طبی نکتہ نظر سے بالکل ٹھیک تھی اس لئے میں نے مکمل اتفاق کیا اور آثارِ گم گشتہ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کرحزبِ اختلاف کی طرح ” تیری دنیا سے دور ہوکے چلے مجبور ہمیں یاد رکھنا” گاتے ہوئے واک کرتے وہاں سے نکل گیا۔
واجد علی گوہر