پھر ترا کوزہ گر بھرم رکھا

پھر ترا کوزہ گر بھرم رکھا
خاک نے چاک پر قدم رکھا

میں نے رکھی تھیں راہ پر آنکھیں
اور بدلے میں اس نے نم رکھا

درد کا ہو رہا تھا بٹوارا
اپنے حصے کا اس نے کم رکھا

بُت کدے میں پڑاو ہے اپنا؟
کس نے سامان میں صنم رکھا؟

غم ترا اور میرا ایک ہوا
میں نے سینے پہ جو عَلم رکھا

عمران سیفی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی