چلو یہ مان لو چراغ تم ہو اور ہوا ہوں میں

چلو یہ مان لو چراغ تم ہو اور ہوا ہوں میں

خفا نہ ہو میاں فقط مثال دے رہا ہوں میں

اگر یہ عشق والا مسئلہ نہ درمیان ہو

تو پھر تجھے بتاؤں تجھ میں کیا ہے اور کیا ہوں میں

اگر ملو گے دشت میں تو وحشتوں کا باب ہوں

جو ساحلوں پہ آگئے کبھی تو نا خدا ہوں میں

میں شاخ سے اتر گیا مزید یہ کہ بِک چکا

سو دیکھ ایک اجنبی کی قبر پر پڑا ہوں میں

صدائیں دے رہا ہے وہ سُنا ہے آرہا ہے وہ

وہ سب تو ٹھیک ہے مگر اسے بتا خفا ہوں میں

عمران سیفی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی