چراغوں کے نگر میں اے اجالو

چراغوں کے نگر میں اے اجالو
ہوا چلنے لگی ہے لو سنبھالو

تمہارا نام لکھ کر چومتا ہوں
ذرا سی بات کو یوں مت اچھالو

یہ سکے شہر میں جا کر چلانا
میاں یہ دشت ہے وحشت نکالو

یہ دھمکی ہے نہ کوئی التجا ہے
بچا سکتے ہو گر خود کو بچالو

مرا گھر بھی گرا ہے بارشوں میں
مرے حصے کی روٹی بھی اُٹھالو

عمران سیفی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی