پھر کسی حادثے کا در کھولے

پھر کسی حادثے کا در کھولے

پہلے پرواز کو وہ پر کھولے

جیسے جنگل میں رات اتری ہو

یوں اداسی ملی ہے سر کھولے

پہلے تقدیر سے نمٹ آئے

پھر وہ اپنے سبھی ہنر کھولے

منزلوں نے وقار بخشا ہے

راستے چل پڑے سفر کھولے

جو سمجھتا ہے زندگی کے رموز

موت کا در وہ بے خطر کھولے

ہے کنولؔ خوف رائیگانی کا

کیسے اس زندگی کا ڈر کھولے

آسناتھ کنول

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی